ہم نہیں ہیں کسی بھی حالت میں
Poet: جنید عطاری By: جنید عطاری, چکوالہم نہیں ہیں کسی بھی حالت میں
مارے پھرتے ہیں شہرِ حیرت میں
ہوس انگیز تھا بدن اُس کا
چُھو نہیں پائے ہم شرافت میں
ہائے وہ لب، مفارقت کا بیاں
زہر گھولا گیا سماعت میں
جانے کن آنسوؤں کو روتا ہوں
کس کی آنکھوں سے کس کی صورت میں
جو بھی چاہا گیا لکھا لیکن
لفظِ ممکن ہوا نہ قسمت میں
تُو اگرچے تھا منفرد لیکن
دم نہیں تھا تری محبت میں
جانے کس طور ڈھل گیا اک شخص
دید سے خواہش و ضرورت میں
آپ اپنے سے ہوں جواب طلب
کیوں ہوں ناپید اُس کی حجّت میں
کب یہ کارِ جہاں میں گُم سمجھیں
جو مزہ ہے بلا کی فرصت میں
اِک عجب حادثہ ہوا یعنی
میں تجھے چاہ گیا ہوں نفرت میں
بخش دی اپنی بادشاہی بھی
ہم بھکاری ہوئے حکومت میں
کیا بتائیں تری کمی جو ہو
ہم ہیں کنگال اپنی دولت میں
تو کیا خط میں یہی لکھوں اُس کو
دن گزرتے ہیں تجھ سے غفلت میں
More Love / Romantic Poetry
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے روٹھ جانے کی ہی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
Bina
من میں تمھیں بسا کے من میں تمھیں بسا کے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
Bina






