ہم نے بہت کچھ دیکھا
Poet: farah ejaz By: farah ejaz, Karachiزمین آسمان کو ایک ہوتے دیکھا
دل سے دل کا ملاپ ہوتے دیکھا
درد کو خوشی میں بدلتے دیکھا
زندگی کو موت کی بانہوں میں جاتے دیکھا
دکھا رہی ہے کچھ عجب تماشے زندگی بھی
نفرتوں کے سائے میں محبت کو سانس لیتے دیکھا
پلٹ کر بار بار لوٹ آتے ہیں وہ بھی ہمیشہ یونہی
جب بھی واپسی کی امید کو دم توڑتے دیکھا
چکا رہی ہوں اپنے خونِ جگر سے رشتوں کے تقاضے سبھی
خود کو کچھ اس طرح اپنوں کے ہاتھوں ہر پل مرتے دیکھا
داستانِ حیات اب تمام ہی سجھئے آپ سب ہماری
انجام کار موت کو اختتامِ زیست پر ہماری فقط مسکراتے دیکھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






