ہم نے تیری یاد میں جلنا چھوڑ دیا ہے
Poet: UA By: UA, Lahoreغم کے اندھیروں میں پلنا چھوڑ دیا ہے
ہم نے تیری یاد میں جلنا چھوڑ دیا ہے
دل کی زمیں میں دفن ہوئے سارے موتی
اشکوں نے گالوں پہ ڈھلنا چھوڑ دیا ہے
چلتے ہیں اس رخ پہ جدھر کو ہوا چلے
سمتِ مخالف گِرنا سنبھلنا چھوڑ دیا ہے
باندھ کے پاؤں میں زنجیریں رسموں کی
گویا کہ انگاروں پہ چلنا چھوڑ دیا ہے
غم کے اندھیروں میں پلنا چھوڑ دیا ہے
ہم نے تیری یاد میں جلنا چھوڑ دیا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







