ہم نے روکا تھا تمہیں فقط رونے سے
Poet: By: ghulam mujtaba kiyani, Lahore ہم نے روکا تھا تمہیں فقط رونے سے
ہم نے کب منع کیا تھا تمہیں ہنسنے سے
شوق سے سجاؤ تم نگ اپنے نگیینوں میں
ہم روکتے ہیں تمہیں پتھروں کو پوجنے سے
خود رہتا ہے مستی میں پُرکیف اور
مجھے روکے ہے میرا ناصح شراب پینے سے
لوٹ آئی ہے جیسے پھر سے وہ بہار
دل میں ہمارے دو چار زخم کھلنے سے
پھر آگئی ہمیں تیری یاد، تیرا خیال
ہوا کے چلنے سے مینہ کے برسنے سے
تیز یو جاتی ہے دل کی دھڑکن بھی
طیب کرتا ہے میں مجھے تیز چلنے سے
پھر نہ جانا پرویز اس کے پاس کبھی
وہ اگر گریز کرے خود تمہیں ملنے سے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






