ہم کو تمہارے پیار کا حصہ نہیں ملا

Poet: رضا علی مکرم By: razaali, Azamgarh

مجروح دل کو مرہمِ پارا نہیں ملا
غم کی دوا ملی تھی مسیحا نہیں ملا

محرومیوں کی اوڑھے تھی چادر یہ حسرتیں
بے آبرو ضمیر کو رستہ نہیں ملا

آوارگی کے شوق میں تنہا ہی رہ گئے
پھر عشق کے جنون کو جز بہ نہیں ملا

آسودہ دل تھا پہلے راحت کی زندگی تھی
ہنستا تھا جسکی خاطر وہ چہرہ نہیں ملا

دستک کوئی دیتا میرے سطحِ خیال پر
پر اجنبی کو روح کا رشتہ نہیں ملا

مر جاؤنگا کسی دن اپنی وفا سے کہہ کے
ہمکو تمھارے پیار کا حصہ نہیں ملا

گل پوش وادیوں سے یہ کہہ کر رضا چلا ہے
پیروں میں زخم خار سے گہرا نہیں ملا

Rate it:
Views: 534
23 Jan, 2018
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL