ہم کوبلا کے بزم میں رسوا نہ کیجئے
Poet: shahzad hussain sa'yal By: shahzad hussain sa'yal, Sialkotہم کوبلا کے بزم میں رسوا نہ کیجئے
دل کو مرے اب اور سویدا نہ کیجئے
میں مانتا ہوں آپ ہیں مجھ سے خفا بہت
لیکن یوں سب کے بیچ تماشا نہ کیجئے
یہ اور بات اب نہیں تم کو مری طلب
لیکن ہر ایک شخص کو ہم سانہ کیجئے
کیوں ہنس رہے ہو حال پہ میرے رقیب سنگ
وہ ہیں رقیب آپ تو ایسا نہ کیجئے
دیکھو جو مسکرا کے تو آجاے جاں میں جاں
اب سمت میری دیکھیے ایسا نہ کیجئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






