ہم گرے نہیں محبت کی آندھیوں میں
Poet: Hafeez Javed By: Muhammad Hafeez Javed, Riyadh, KSAہم گرے نہیں محبت کی آندھیوں میں
جکڑ لیا طوفان کو بھی اپنی مٹھیوں میں
اداس لمحوں کی اداسیاں ہوگئیں رفو چکر
خواب ہوئے وُہ منظر جو کٹے اداسیوں میں
جسے خوش دیکھ کے میں خوشی پاتا
وُہ اٹھکیلیاں کھا رہی ہے، سہیلیوں میں
وُہ میرا پیار ہے اور میں ہوں دلدار اُس کا
ہو گئے ہیں دل اپنے، اب تو تسلیوں میں
محبت میں امر ہوجانا دونوں کو ہی آتا ہے
جاوید ایسی وفا پڑھی تھی صرف کہانیوں میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi








