ہمارا پیار ملاقات سے پہلے بھی تھا
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiہمارا پیار ملاقات سے بھی پہلے تھا
یہ ہجر کرب مصافات سے بھی پہلے تھا
نہیں جو روز ابھی کال آتی اب ان کی
یہ مسئلہ تو شروعات سے بھی پہلے تھا
نہیں جو آتا مجھے ملنے کرکے بھی وعدے
یہی ولی کی کرامات سے بھی پہلے تھا
قبول ہوئی نہیں ہے دعا مرے حق میں
معاملہ بڑے خدشات سے بھی پہلے تھا
کسی کا جل رہا ہے آشیانہ دو دن سے
دھواں یہ گزری ہوئی رات سے بھی پہلے تھا
لٹا رہا ہوں خوشی سے جو اپنی میں دولت
امیر میں برے حالات سے بھی پہلے تھا
نصیب میرے برے ہیں کیا کروں شہزاد
غریب کوئی مری ذات سے بھی پہلے تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






