ہماری محبت۔۔۔۔۔
Poet: M.ASGHAR MIRPURI By: M.ASGHAR MIRPURI, BIRMINGHAMکہا ہماری محبت سےلوگ کیوں جلتےہیں
بولی یہاں ایسا ہی ہوتا ہےجب دو دل ملتےہیں
پوچھا یہاں کیوں کسی کی کوئی مددنہیں کرتا
بولی کوئی ایسانہیں جو دوسرےکاحسدنہیں کرتا
کہا میری نظر میں صرف تیرا حسن وجمال رہتاہے
جواب آیا اصغرہمہیں ہر گھڑی تیراخیال رہتاہے
کہا میرےانگ انگ میں تیری خوشبو بسی ہے
جواب آیا میری ویران زندگی میں تیری کمی ہے
کہا تجھےپیار کرنےسےہم کسی سےنہیں ڈرتے
بولی تیرےسوا ہم کسی اور سےنہیں پییارکرتے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






