ہمارے درمیاں ہےجوہ دیوار گرادو
Poet: m.asghar mirpuri By: m.asghar mirpuri, birminghamہمارے درمیا ن ہےجووہ دیوار گرادو
چہرے سے نقاب کومیرےیارگرادو
شکار کرنےکوتمہاری نگاہ کافی ہے
اپنے ہاتھ سے تم یہ تلوار گرا دو
آسماں پہ کالی گھٹا چھا جائے
جو زلف کو چہرے پہ ایک بارگرادو
وہ پتھربھی گیت گانے لگے
جس پہ آنسودو چار گرا دو
شاید مجھےکوئی شہنشاہ لےجائے
مجھےکسی کنویں میں سرکارگرادو
یہ نہ ہو سامعین شاعری نہ سنیں
محفل میں اتنا نہ میراوقار گرا دو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






