ہمارے پاس جادوُ کی اگر کویٔ چھڑی ہوتی
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, UKہمارے پاس جادوُ کی اگر کویٔ چھڑی ہوتی
زمانے کی خوشی ہر ایک قدموں میں پڑی ہوتی
ہمیں نہ جھیلنے پڑتے زمانے کے یہ غم سارے
سبھی کچھ ٹھیک کر دیتے اگر مشکل گھڑی ہوتی
پڑی تھی کیا ہمیں جو جاں نچھاور تم پہ کر دیتے ؟
نہ ہوتے پاس تم اتنے ، نہ ساون کی جھڑی ہوتی
نہ دیتے ہم اگر اُن کو اجازت دِل میں آنے کی
چھرُی اُن کے ستم کی آج کیوں دِل میں گڑی ہوتی ؟
میں اپنی زیست کی ہر ایک بازی جیت سکتی تھی
اگر ماں آج کے دِن میرے پہلوُ میں کھڑی ہوتی
چلو اچھا ہے دوُری کا کیا ہے فیصلہ تم نے !
کہ تم سے دوُر جانے میں ہمیں مشکل بڑی ہوتی
جو عذراؔ قیمتی ہوتی تِری چاہت کی نظروں میں
تِرے دِل کی انگوُٹھی میں نگینے سی جڑی ہوتی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






