ہمارے گناہوں کے سبب آیا ہے زلزلہ لوگوں

Poet: IMTIAZ SHARIF IMTIAZ By: RAAZ BHANEWALI, SIALKOT

ہمارے گناہوں کے سبب آیا ہے زلزلہ لوگوں
نام الہی لو کہ کڑا ہے مرحلہ لوگوں

یہ اعلان قیامت ہے خدا کی طرف سے
کہ ہم مبتلا ئے آزمائش ہیں زلزلہ و برف سے

اس سے پہلے کہ خدا ہم سے روٹھ جائے
چلو اپنے گناہوں کا کر لیں ازالہ لوگوں

ہاتھ جوڑیں اور جھکا دیں ہم جبیں اپنی
خدا سے سلامت مانگیں جانیں اور زمیں اپنی

چلو گناہوں سے نیکیوں کا کریں تبادلہ لوگوں

احکام خدا کے مطابق بنائیں حیات کا نظام اپنا
ہر بنی نوع تک پہنچا ئیں یہ پیغام اپنا

اسی طور ہو گا ہمارے گناہوں کا کفارہ لوگوں

یہ بھی فضل ربی ہے کہ ہم زندہ ہیں
چلو خدا سے کہیں سب کہ ہم شرمندہ ہیں

نئے ڈھنگ سے شروع کریں حیات کا سلسلہ لوگوں

وقت نازک ہے پیارو چلو خود کو بیدار کریں
روز ازل کے لیے انسانیت کو تیار کریں

چلو متحد ہو کے کریں آج یہ فیصلہ لوگوں

Rate it:
Views: 821
18 May, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL