ہمکلام
Poet: Faiza Umair By: Faiza Umair, Lahoreتنہائی میں خود سے ہمکلام ہوئی
بچھڑنے کے خیال سے
دل لرز اُٹھا، روح کانپ اُٹھی
اور خود سے ہی بے زار ہوئی
سوچوں کا اک تسلسل تھا
اور دل کا بھرم ٹُوٹا نہ تھا
پھر آس کی ڈوری چُھوٹ گئی
اور خوشیاں ہم سے روٹھ گئیں
اے دل ناداں! تُو غم نہ کر
میں اپنے ضبط پہ حیراں ہوئی
اس سوچ میں صبح سے شام ہوئی
اور پھر سے
خود سے ہمکلام ہوئی
اب غم و اندوہ سے کیا ڈرنا
اس سوچ میں کیوں جینا مرنا
پھر خدا سے ہمکلام ہوئی
ہر راہ میری ہموار ہوئی
ہر دُعا میں اُس کو ہی مانگا
اُس کو چاہا
اُس کو سوچا
اُس کو پایا
مقبول میری دُعا ہوئی
ملن کے خیال سے، دل شاد ہوا
ہر مصلحت نہاں ہوئی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







