ہمیں بھی خبر نہ ہوئی
Poet: UA By: UA, Lahoreہم کب سے بے خود ہونے لگے ہمیں بھی خبر نہ ہوئی
ان دیکھی راہوں میں کھونے لگے ہمیں بھی خبر نہ ہوئی
کسی کی ذات سے وابستگی سی محسوس ہونے لگی ہے
کب کیسے اور کیوں اس بات کی ہمیں بھی خبر نہ ہوئی
کہ جن کے نام سے بھی یہ دل کبھی واقف نہیں رہا ہے
انکے بنا زیست کیوں مشکل ہوئی ہمیں بھی خبر نہ ہوئی
اجالوں کی گھڑیوں کا انتظار کرتے کرتے کٹ ہی گئی
شب فراق کچھ اس ایسے کہ ہمیں بھی خبر نہ ہوئی
عظمٰی ہمیں اک بیگانے سے شہر کے انجانے راستے
کیسے اپنے سے لگنے لگے ہمیں بھی خبر نہ ہوئی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







