ہمیں تو بنایا تھا خدا نے عشق درمیاں رکھ کر
Poet: ثوبیہ انمول By: sobiya Anmol, Lahoreہمیں تو بنایا تھا خدا نے عشق درمیاں رکھ کر
چلتی رہی بیس برس چاہت کا سر پہ آسماں رکھ کر
نابینا ہی رہیٗ کچھ تو دے گئی بے خودی مجھے
دل میں یقینِ خدا رکھا ٗ لب پہ فغاں رکھ کر
اشک نکلے تو رُخسار سے ہی پی لیے میں نے
درد نکلا تو پھر لے لیا میں نے دلِ ناداں رکھ کر
وہم و گمان سے نکل کر چلے آ ؤ بحرِ بے کراں بن کر
مجھے جانا ہے سنسار سے پریت کی داستاں رکھ کر
کہ میں ڈوبنے پہ ہوں ، خاور سے باختر چلے آ ؤ
مجھے فناہ نہ کر دےآشفتگئ اِنتظار بے زباں رکھ کر
آ شوبِ حیات نے توڑ ڈالا ہے تمہارے بغیر مجھے
اِک سعادتِ دیداردےجاؤ زمانے پہ خودکوعیاں رکھ کر
اے! گمشدہ محبت مل جا کہ مَنتیں پوری کر دوں
موت کچل نہ دے مجھے یونہی بے ایماں رکھ کر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






