زخمی دل ہے میرا پھر سے دل لگانے کی چاہت کیسے کروں

Poet: M,masood By: M,masood, Nottingham

زخمی دل ہے میرا پھر سے دل لگانے کی چاہت کیسے کروں
ابھی تو بھرے نہیں پہلی محبت کے زخم محبت کیسے کروں

چھوڑ گیا وہ پر اب بھی اعتبار اُس کے لوٹ آنے کا مجھے
رضامند میں بھی تھا وقت کے تقاضے پر شکایت کیسے کروں

گرتے حال ہوا میں شرمشار بھی جس کے زینت کی کا تیر
گر رسوائی اُسے ہے اپنی محبت کی زالالت کیسے کروں

کیوں میں بِے زبان ہوں زمانے کے تنزیہ بھرے سوالوں پر
مخالف محبت کے اپنے ہی ہیں خود ہی عداوت کیسے کروں

اے خدا کیا اب یہی ہے عبادتِ ہجر مسعود پر اب تیرا
چشم دردیدہ میں مبتلا کر دیا اب تیری عبادت کیسے کروں

کہتا ہے کوئی خود غرض مار گیا ہے تجھے چھوڑ جانے والا
زندہ میرے دل میں اب بھی وہ تو اُس کی شہادت کیسے کروں

درد ہے اپنے درد کا احساس اپنی کسی غزل سے ہی کروں
کیوں کر زبان سے زمانے کو عام اپنے جذبات کیسے کروں

Rate it:
Views: 3651
27 Oct, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL