ہمیں غور کرنے کی عادت نہیں ہے

Poet: purki By: m.hassan, karachi

ہمیں غور کرنے کی عادت نہیں ہے
اگر غور کرتے تو یہ حالت نہ ہوتے

اگرکچھ سوچنے کی زحمت یہ کرتے
چند سالوں بعد ہی یہ ملک نہ ٹوٹتے

ہمیں مُلّاؤں نے پہنچایا ہےآج اس ڈگرپر
فکر کرتے تو آج ہم ٹکرے ٹکرے نہ ہوتے

ہمیں علم حاصل کرنے کی ہے سخت ضرورت
سوچتے اگر کچھ تو جہالت میں ڈوبے نہ ہوتے

علم اک روشنی ہے یہ سب جانتے ہیں
اگر مسلمان ہوتے توعلم کی تجارت نہ کرتے

اک عام آدمی اب کیسے پڑھائے اپنے بچوں کو
تجارت نہ کرتے تو سرکاری اسکولوں کو تالے نہ لگتے

 

Rate it:
Views: 511
03 Nov, 2012
More Political Poetry