ہمیں ناں مارو ہمیں ناں مارو

Poet: Sayed Faraz Bukhari Summaar By: Sayed Faraz Bukhari, Lahore

ہمیں ناں مارو ہمیں ناں مارو
نئے طلوع کے نئے فرعونوں
روپ تم پھر بھلے بدل لو
حکمرانوں یا حکمرانی کے دعویدارو
ہمیں ناں مارو ہمیں ناں مارو
تم اِس طرف ہو یا اُس طرف ہو
مگر یہ ادراک تم کو ہی گا
کہ ہم تو گلشن کی کونپلیں ہیں
ہمیں مسسل یونہی کچل کے
بہار آَئی تو ہم نہ ہونگے
یقین جانو تم رو پڑو گے
ہماری خاطر ہم سے پہلے
حسین۴بچوں کو دے چکے ہیں
جناح بھی گھٹ گھٹ کے مر گئے ہیں
تم اور جزیہ کیا مانگتے ہو
صبح کو مڑ کے جو تم نے دیکھا
بغیر میرے تمھارے گلشن
ویران ہونگے ویران ہونگے
یقین جانو تم رو پڑو گے
یقین جانو تم رو پڑو گے

Rate it:
Views: 463
31 Aug, 2014
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL