ہمیں کیا معلوم
Poet: Shaikh Khalid Zahid By: Shaikh Khalid Zahid, Karachiاسے جاننا ہے تو اس میں اترنا پڑے گا
گہرائی کہ خوف کو رد کرنا پڑے گا ۔۔۔ ڈوبنا پڑے گا
سب کچھ جو اطراف میں ہے چھوڑنا پڑے گا
جسم کی حقیقت سے غافل ہونا پڑے گا
(اب سمجھ میں آتا ہے یہ اللہ لوک کیو ں تن کی پروا نہیں کرتے ۔۔۔یہ جسم کو بطور بوجھ لئے پھرتے ہیں۔۔۔)
نگاہیں کہیں بھی ہوں
ایک ہی منظر نگاہوں میں رکھنا پڑے گا
روز و شب سے آزاد ۔۔۔سرد و گرم سے آزاد
سفر در سفر کرنا پڑے گا
دل کی دھڑکن پر جھومنا پڑتا ہے
جہاں سے اپنے اور رب کہ ہونے کا پتہ ملتا ہے
آلودہ زندگی سے بھاگنا پڑتا ہے
کبھی جوتے ، کبھی تھپڑ تو کبھی ڈنڈوں سے نفس کو پٹوانا پڑتا ہے
محسن کہ قدموں میں لوٹنا پڑتا ہے
ہر وقت لرزنا اور رونا پڑتا ہے
اپنے ناموں کی قید سے آزادی چاہئے
ان رشتے ناتوں سے آزادی چاہئے
اپنی سب سے قیمتی چیز کا بلیدان دینا پڑتا ہے
سب سے قریبی تعلق رد کرنا پڑتا ہے
پھر کہیں جا کہ بوجھل من ہلکا ہوتا ہے
تب کہیں جاکہ خدا کی معرفت کا در کھلتا ہے
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






