ہنساتا ہے مجھے پھر وہنسا کر جب رلاتا ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاہنساتا ہے مجھے پھر وہنسا کر جب رلاتا ہے
ہزاروں پھول پھر خود ہی کہیں سے توڑ لاتا ہے
مجھے بانہوں میں بھر کر زندگی کے نام پر شاہد
سرورِ عشق کی آتش میں جسم و جاں جلاتا ہے
مرا ساتھی مرا دلبر مرے ہر خواب کا محور
شعور آگہی دے کر حسیں غزلیں لکھاتا ہے
مرے ارماں مری چاہت تخیل ہی تو ہے جاناں
یہ زندانِ حیاتی میں مجھے مجھ سے ملاتا ہے
دلِ وشمہ کی دھڑکن سے بنا کر اک حسیں گجرا
مرے بالوں میں چاہت سے مرا جانم سجاتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






