ہنستے ہوئے آنکھوں سے چھلکنے لگے آنسو
Poet: dr.zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanوہی درد کا ساگر ہے ، وہی غم کا بھنور ہے
وہی ناؤ شکستہ ، وہی دشوار سفر ہے
گزری ہے شب رنج و فغاں پر وہی گریا
یادوں کا کفن اوڑھے ہوئے میری سحر ہے
ہنستے ہوئے آنکھوں سے چھلکنے لگے آنسو
آہوں کا مری ان پہ ہوا کتنا اثر ہے
بس دور سے ہی دیکھ کے وہ چل دیے واپس
کہتے تھے ترے حال کی سب ہم کو خبر ہے
اک دوجے سے کٹ کے جہاں افراد مکیں ہوں
بس ایک سرائے کی طرح ہوتا وہ گھر ہے
پیسوں کے لیے اپنی انا دفن بھی کر دیں
ہاں نفس پہ اک بوجھ سا رہتا تو مگر ہے
میں ذکر محمد پہ بہت رویا تھا اک بار ( صلی الله علیہ و سلم )
جو کچھ بھی مجھے آج ملا اس کا اجر ہے
درویش بھی ہوں ،عشق مجازی کا بھی خوگر
دنیا سے جدا عشق میں یہ میری ڈگر ہے
اب اور کہیں دل کے چراغوں کو جلائیں
رخ آج یہ بے حس سی ہواؤں کا ادھر ہے
جاں دیتے پرکھ ہوتی ہے عاشق کی وفا میں
سچا ہے وہ عاشق جو شہیدوں سا نڈر ہے
غیروں پہ کرم اور ہمیں سے ہے عداوت
زاہد یہ وفاؤں کا ملا ان سے ثمر ہے
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






