ہنسو تو ساتھ ہنسے گی دنیا بیٹھ اکیلے رونا ہوگا
Poet: روحان By: روحان, Rawalpindiہنسو تو ساتھ ہنسے گی دنیا بیٹھ اکیلے رونا ہوگا
چپکے چپکے بہا کر آنسو دل کے دکھ کو دھونا ہوگا
بیرن ریت بڑی دنیا کی آنکھ سے جو بھی ٹپکا موتی
پلکوں ہی سے اٹھانا ہوگا پلکوں ہی سے پرونا ہوگا
کھونے اور پانے کا جیون نام رکھا ہے ہر کوئی جانے
اس کا بھید کوئی نہ دیکھا کیا پانا کیا کھونا ہوگا
بن چاہے بن بولے پل میں ٹوٹ پھوٹ کر پھر بن جائے
بالک سوچ رہا ہے اب بھی ایسا کوئی کھلونا ہوگا
پیاروں سے مل جائیں پیارے انہونی کب ہونی ہوگی
کانٹے پھول بنیں گے کیسے کب سکھ سیج بچھونا ہوگا
بہتے بہتے کام نہ آئے لاکھ بھنور طوفانی ساگر
اب منجدھار میں اپنے ہاتھوں جیون ناؤ ڈبونا ہوگا
جو بھی دل نے بھول میں چاہا بھول میں جانا ہو کے رہے گا
سوچ سوچ کر ہوا نہ کچھ بھی آؤ اب تو کھونا ہوگا
کیوں جیتے جی ہمت ہاریں کیوں فریادیں کیوں یہ پکاریں
ہوتے ہوتے ہو جائے گا آخر جو بھی ہونا ہوگا
میراجیؔ کیوں سوچ ستائے پلک پلک ڈوری لہرائے
قسمت جو بھی رنگ دکھائے اپنے دل میں سمونا ہوگا
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






