ہو جاۓ تمہارے شہر میں تمہی سے ملاقات
Poet: ضمیر ـ تخت ہزارہ کا وارث By: Rohail Afzal, Haripur،ہو جاۓ تمہارے شہر میں تمہی سے ملاقات
قصے بہت، کہانیاں بہت اور لمبی ہو گی رات۔
،سناؤ گا ادھوری کہانیاں، مچلتی خواہشیں
فریب بہت، الزام بہت اور ہماری ہو گی بات۔
،چھڑا نہ پائیں گے ہمیں یہ دنیا کے رستے
ویران بہت، سنسان بہت، ارے انکی کیا اوقات۔
،نظر میں ہو گی پھر تمھاری نظر
آنکھوں میں پلکیں، پلکوں کے کمالات۔
،جی تو چاہتا ہے وقت تھم سا جاۓ تمھارے ساتھ
دوں میں پھر تمھیں تمھارے سوالوں کے جوابات۔
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






