ہو میسر زمیں یا کہ زیر زمیں
Poet: امن وسیم By: امن وسیم, ملتانہو میسر زمیں یا کہ زیر زمیں
میں بنوں گا بس تیرے شہر کا مکیں
پھول سے بھی تو نازک ہے اے نازلیں
ہاتھ ہیں مرمریں اور بدن ہے زریں
چاند کہہ نہ سکوں چاند میں داغ ہے
میں نے دیکھی نہیں تم میں کوئی کمی
خوبیاں تجھ میں دیکھی ہیں میں نے بہت
میں کیسے کہوں تم کو صرف اک حسیں
میری یادوں کا محور تمہی ہو صنم
میری آنکھوں کی ٹھنڈک میری مہ جبیں
زندگی سے بھی زیادہ چاہوں گا تمہیں
نہ تو انکار کر بن میری ہم نشیں
تیرے اک اشارے پہ جاں وار دے
کہیں امن کے سوا کوئی ہو گا نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






