ہو نہیں سکتے
Poet: M.Asghar By: M.Asghar, BIRMINGHAMہم کسی بےوفا کے قدموں کی دھول ہو نہیں سکتے
جنکی آستینوں میں خنجر ہوں ہاتھوں میں پھول ہو نہیں سکتے
جو لوگ اپنی ذات کو سمجھیں ہر کسی انسان سے افضل
ایسے کم ظرف عوام میں کبھی مقبول ہو نہیں سکتے
دوست بن کرگھونپتے نہیں کسی پیٹھہ میں خنجر
ہم لاکھ برے سہی لیکن ہمارے ایسے اصول ہو نہیں سکتے
دوسروں کے لیے بغض و حسد جن کےسینوں میںپلتا ہو
ایسے ذہن کے لوگ کبھی بااصول ہو نہیں سکتے
ہمارا دین تو سکھاتا ہے دشمنوں کو بھی معاف کرنا
ایسی باتوں پہ نہ عمل کریں ہم ایسے مجہول ہو نہیں سکتے
اب تم اگر پتھر سے ہیرا بھی بن جاؤ تو کیا
کسی حال میں بھی تم اصغر کو قبول ہو نہیں سکتے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







