ہوا، صحرا، سمندر اور پانی، زندگانی
Poet: zain shakeel By: zain shakeel, gujratہوا، صحرا، سمندر اور پانی، زندگانی
کسی بچھڑے ہوئے کی ہے نشانی، زندگانی
کوئی موسم، کوئی لمحہ، کسی کا سُرخ آنچل
مجھے اچھی لگی تیری کہانی، زندگانی
تمہارے چھوڑ جانے پر ہوئے ہیں طنز ایسے
سنو آ کر کبھی میری زبانی، زندگانی
اُسے کیسے بتاؤں کس طرح میں نے بسر کی
پڑی تنہا مجھے خود ہی نبھانی، زندگانی
نئے ہیں زینؔ رستے پر کہاں وہ جازبیت
ہمیں تو راس تھی برسوں پرانی، زندگانی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






