ہوا محسوس کے تو نے یاد کیا
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaہوا محسوس کے تو نے یاد کیا
میں نے پوچھا تو ، تو نے انکار کیا
جب جاننا چاہا تیرا حال دل تو
تو نے باتوں میں الجھا کر پریشان کیا
ملنے پے ہر بار گلاب دیا تونے
مگر لبوں کو میرے سامنے ہمشیہ خاموش کیا
تیری نظریں بھی بولنے لگی تھی اب تو
شاید ! اس لیے تو نے خود کو مجھ سے دور کیا
یہ دل پھر بھی نہیں سمجھتا ہیں ناجانے
تو نے خاموش رہ کر کیا وار کیا
یہ دل انتظار کرتا ہیں اب بھی تیرا
جبکہ تو آنے کا کوئی وعدہ نہیں کیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






