ہوائیں آج کیوں نغمے ترے مجھ کو سناتی ہیں
Poet: dr.zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanہوائیں آج کیوں نغمے ترے مجھ کو سناتی ہیں
فضائیں دل میں طوفان محبت پھر اٹھاتی ہیں
یہ بھیگی سی ہوا ، مہکی فضا یہ چاندنی راتیں
نہ جانے کیوں تمھاری یاد سینے میں جگاتی ہیں
اٹھیں لہریں سی پانی میں ، بجی سرگم خموشی میں
یہ رم جھم کی صدائیں گیت بن کے دل لبھاتی ہیں
نہ آؤ تم خیالوں میں تو دن ڈوبیں اندھیروں میں
جو آتی ہو تصور میں تو راتیں جگمگاتی ہیں
مجھے ان سے نہیں شکوہ ، شکایت ہے تو بس اتنی
ہوائیں کیوں ترے مکھڑے کو آنچل میں چھپاتی ہیں
یہ نازک سی کلی کھوئی ہوئی ہے کن خیالوں میں
اسے بھی کیا تری یادیں بہاروں میں ستاتی ہیں
یہ موسم پھر نہ آئے گا ، نہ ایسا ہی سماں ہو گا
چلے آؤ کہ اب تم کو فضائیں بھی بلاتی ہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






