ہوش رندوں کے اڑا دے تو مزہ آجائے
Poet: By: Shahid Hasrat, Multanہوش رندوں کے اڑا دے تو مزہ آجائے
جام آنکهوں سے پلا دے تو مزہ آجائے
آج پہلو میں وہ بیٹها ہے بڑی دیر کے بعد
رب یہیں رات تهما دے تو مزہ آجائے
میں نے چہرے پہ نگاہوں کو جما رکها ہے
بس وہ گهونگٹ کو ہٹا دے تو مزہ آجائے
اس کا انداز لب و لہجہ بڑا دلکش ہے
کوئی بهی شعر سنا دے تو مزہ آجائے
چاند مغرور ہے اپنی ہی کشش پر ,پاگل
رخ اگر یار دکها دے تو مزہ آجائے
خواب میں دیکها ہے ,بیٹها ہوں اسے گود لیے
کوئی تعبیر بتا دے تو مزہ آجائے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






