ہوش میں رہتے خبر رہتی
Poet: راشد قیوم انصر By: راشد قیوم انصر, Pakpattan Shareefہوش میں رہتے، خبر رہتی مگر اس عشق میں
میری شاہی بھی گئی اور راجدھانی بھی گئی
جستجو میں تیری چلتے چلتے مَیں اتنا چلا،
عمر بیتی اور میری یہ جوانی بھی گئی
مرکزی کردار تھا میری کہانی کا وہ شخص
وہ گیا اور ساتھ ہی اُس کے کہانی بھی گئی
ہم نے یعقوب کی سنت نبھائی ہے کہ ہم
اِس قدر روئے کہ اشکوں کی روانی بھی گئی،
زندگی نے آج سب کو اس قدر الجھا دیا
وہ تکلف بھی گیا وہ میزبانی بھی گئی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






