ہوگی نا کسی کو بھی خبر شام کے بعد

Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, میانوالی

ہوگی نا کسی کو بھی خبر شام کے بعد
چھوڑ آؤں گا پتھر کا نگر شام کے بعد

اک میرے ہی حصے میں تو بس شام نہیں
آۓ گی کبھی میری سحر شام کے بعد

دن بھر کی مسافت کی جو ہے ہوتی ہے تھکن
پنچھی بھی نکل آتے ہیں گھر شام کے بعد

ہوتا ہے یہی میرے سکوں کرنے کا وقت
یاد آیا نہ کر تُو مُجھے ہر شام کے بعد

شاید کے وہ سنگدل کا طرف دار ہی ہے
آتا نہیں جُگنُو جو نظر شام کے بعد

گھر اپنے کا رستہ اُسے گر یاد رہا
وہ لوٹ ہی آۓ گا مگر شام کے بعد

رکھتے نہیں آنگن میں جو دولت کا عذاب
سو جاتے ہیں بےخوف و خطر شام کے بعد

سمجھو کے اُسی دشت میں باقرؔ ہے مکین
ماتم کا سماں سا ہو جدھر شام کے بعد

Rate it:
Views: 472
07 Jun, 2015
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL