ہوگی نا کسی کو بھی خبر شام کے بعد
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, میانوالیہوگی نا کسی کو بھی خبر شام کے بعد
چھوڑ آؤں گا پتھر کا نگر شام کے بعد
اک میرے ہی حصے میں تو بس شام نہیں
آۓ گی کبھی میری سحر شام کے بعد
دن بھر کی مسافت کی جو ہے ہوتی ہے تھکن
پنچھی بھی نکل آتے ہیں گھر شام کے بعد
ہوتا ہے یہی میرے سکوں کرنے کا وقت
یاد آیا نہ کر تُو مُجھے ہر شام کے بعد
شاید کے وہ سنگدل کا طرف دار ہی ہے
آتا نہیں جُگنُو جو نظر شام کے بعد
گھر اپنے کا رستہ اُسے گر یاد رہا
وہ لوٹ ہی آۓ گا مگر شام کے بعد
رکھتے نہیں آنگن میں جو دولت کا عذاب
سو جاتے ہیں بےخوف و خطر شام کے بعد
سمجھو کے اُسی دشت میں باقرؔ ہے مکین
ماتم کا سماں سا ہو جدھر شام کے بعد
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






