ہے اپنے شہر میں اب کے فرار کا موسم
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملائیشیادیارِ خواب سے واپس جو لوٹ کر آئے
نئی زمین نئے آسماں نظر آئے
ہے اپنے شہر میں اب کے فرار کا موسم
سفر سے لوٹ کے شاہد نہ کوئی گھر آئے
ترقیوں کے فسانوں کی گونج ہے پھر بھی
خدا کرے کہ بشر کی بھی کچھ خبر آئے
وہ ذات کیا جو نہ رکھے صفات و خو کوئی
وہ ابر کیا جو ہواؤں کے دوش پر آئے
وہ جانتا ہےکہ مجرم نہیں ہوں میں لیکن
وہ جانتا ہے کہ الزام میرے سر آئے
ہم اپنے آپ کو پتھر بنا رہے ہیں یہاں
مبا دا پھر کسی نازک کی آنکھ بھر آئے
کمال و فن کی میں قیمت لگا سکوں وشمہ
جہاں میں نام ہو یہ بھی اگر ہنر آئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






