ہے دور تیرا نگر نہ دے دکھائی میاں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاکبھی تو دل کی صدا اس کو دے سنائی میاں
ہے دور تیرا نگر نہ دے دکھائی میاں
ہمیشہ وصل کی گھڑیاں کبھی نہیں رہتیں
وہ عشق کیا ہے جو عمروں کی ہو جدائی میاں
میں تیرے پیارکی قیدی ہوں حال پوچھ مرا
یا پھر سدا کے لیے قید دے رہائی میاں
مجھے تو تیری طلب ہے کچھ اور مانگا نہیں
خدا سے کب یہ کہا ہے جو دے خدائی میاں
کیوں آدمی کبھی انسان بن نہیں پاتا
بتاؤ اس میں بھلا کیا ملے برائی میاں
زباں سے اپنی تو ظاہر ہوں میں بہت یہ ناز
دعا ہے رب سے دل کو ہی پارسائی میاں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






