ہے پھولوں سے نازک لبوں پر جوانی
Poet: عامر ثقلین By: Amir Saqlain , Arifwalaہے پھولوں سے نازک لبوں پر جوانی
کہ ابرو پہ مستی تمھارے ہے لیلیٰ
نگاہیں ستاروں کے جیسے نگینے
انھی میں محبت کا ساغر ہے لیلیٰ
ہیں قوس و قزح سے حسیں تیری زلفیں
پری آسماں سے یا دیوی ہو لیلیٰ
معطّر پسینے کے قطرے بدن پر
گلوں کے وضو کا وسیلہ ہیں لیلیٰ
ترا حسن اخلاق سب سے انوکھا
ادائیں بھی پیاری نرالی ہیں لیلیٰ
زمیں آسماں کی ہے رونق تمھی سے
سراجاً منیرا کا جلوہ ہو لیلیٰ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






