یا خدا بن جاؤں میں پتھر کی مورت کِس طرح
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKیا خدا بن جاؤں میں پتھر کی مورت کِس طرح
دِل پہ سہتی ہی رہوں میں ان کی نفرت کِس طرح
جو یہ کہتا تھا میں اس کی روح کا سکھ چین ہوں
ہوگئی اُس کے لئے میں بے ضرورت کِس طرح ؟
دوریاں بڑھتی ہی جائیں گی اگر ہر دِن یونہی
دور کر پاؤں گی میں ان کی کدورت کِس طرح ؟
ایک دو پل کی محبت کی یہاں فرصت نہیں
لوگ اِک دوجے سے کر لیتے ہیں نفرت کِس طرح ؟
تم ہماری زندگی کا ایک ہی ا ر ما ن ہو
دِل سے جانے کی تمہیں دے دیں اِجازت کِس طرح ؟
غیر بن کر جب مرے اپنوں نے آ نکھیں پھیر لیں
کیا کہوں ٹوٹی پھر اس دِل پر قیامت کِس طرح
چھوڑئیے کیا چاہتیں بھی بانٹنے کی چیز ہیں ؟
کوئی سہہ سکتا ہے چاہت میں شراکت کِس طرح
لوگ جو ہوتے ہیں سارے ایک کشتی کے سوار
ایک دوجے کو وہ کرتے ہیں ملامت کِس طرح ؟
میری آنکھوں سے جھلکتا غم انہی کی دین ہے
بھول جاؤں میں بھلا ان کی عنائیت کس طرح ؟
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






