یا دوست ہی پہلے سا عناں گیر نہیں ہے
Poet: چودھری طاہر عبید تاجؔ By: Chaudhry Tahir Ubaid Taj, Islamabadیا دوست ہی پہلے سا عناں گیر نہیں ہے
یا دستِ مسیحا میں وہ تاثیر نہیں ہے
کیا رقصِ جنوں سے ہو کرامت کی توقع
کہ پائوں میں اب حلقہء زنجیر نہیں ہے
خیرہ ہوئی جاتی ہے نظر، نظرِ کرم سے
یہ عاجزی میری، کوئی تقصیر نہیں ہے
یا میں ہُوا الفاظ کا پابند زیادہ
یا شاعری جذبات کی تشہیر نہیں ہے
نقادِ ہنر نہ مجھے لفظوں سے سزا دے
ہے موئے سخن، آنکھ میں شہتیر نہیں ہے
اے ملکِ خداداد کے حاکم تُو سمجھ رکھ
یہ ملک تیرے باپ کی جاگیر نہیں ہے
ہے طرزِ تغافل سے بھرا طرزِ تکلم
کہنے کو تاجؔ مسئلہ گھمبیر نہیں ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






