یا رب میرا دیس بن گیا ھے آجکل وزیرستان
Poet: purki By: m.hassan, karachiبڑھ گیا سایا
گھٹ گیا انسان
ہر طرف اندھیرا
دیس میرا سنسان
مر گیا انسان
رہ گیا حیوان
رُل گیا انسان
پَل گیا حیوان
ایسے ماحول میں کیسے بناؤں خود کوانسان
یا رب میرا دیس بن گیا ھے آجکل وزیرستان
شکریہ میرے دوست اپنے مشورے کا
شکر ہے کوئی تو ہے یہاں بھی ہمدرد انسان
ایسا کوئی نسخہ تو بتا میرے دوست
کیسے بناؤں میں خود کو اچھا انسان
میرے دوست مت ہو تم پریشان
کڑوا سچ برداشت کرلو میری جان
منشیات سے دور رہتا ہوں
پلیزمت کہوکہ کھاؤ میٹھا پان
سُوٹا لگانے کا مشورہ دے کوئی آپکو
وہ کیسے ہوسکتا ہے ایک اچھا انسان
خود کو بناؤ اچھا انسان
زندگی کو چڑھاؤ پروان
تعلیم و ہنر سے آراستہ کرلو
سارا وقت تعلیم پر ہو قربان
ارشاد نبوی بھی کیا خوب ہے دوستو
مُعلّم اور شاگرد کے علاوہ باقی سب بے جان
مت کرو گھر والوں کو تنگ
ورنہ ہوجایئں گے یہ پریشان
خود کو جلدی سے ٹھیک کرو
تاکہ گھر والے ہوجائے حیران
در و دیوار میں بہت اداسی ہے پُرکی
کافی دنوں سے کوئی نہیں آیا مہمان
ہماری ویب پرتم نے بہت کچھ لکھا ہے پُرکی
کیا کوئی پڑھتا بھی ہے تیری یہ بے تُکی داستان
لکھ لکھ کر تم نے کونسا تیر مارا ہے
اب نہیں پڑنے والا تیری نظموں میں کوئی جان
میرا کام ہے لکھنا پڑھنا اور اپنا پیخام پہنچانا ہے
پڑھے یا نہ پڑھے کوئی فکر نہیں مجھے میری جان
تم دیوانوں کی طرح لکھو صبح و شام
یہاں کوئی نہیں پڑھنے والا تیرا دیوان
میرا پیخام وہی کچھ ہے جو میرے اللہ کا ہے
وہی کچھ لکھا ہے جو میرے نبی کا ہے فرمان
جو سب کا بھلا سوچے وہ ہے کام کے مسلمان
جو صرف اپنے لئے سوچے وہ ہے نام کےمسلمان
اس دور میں مشکل ہے سب کا بھلا سوچنا
سٹیٹ لے رہا ہے آج کل غریبوں کا امتحان
تفہیم علم و دین میں سب قومیں بازی لے گئے
تیری قوم اب تک کومے میں ہے انکوبھی جگاؤ بھائی جان
پُورک جاگو جگاؤ تحریک سب کو جگائے گا انشاءاللہ
سب کی زبان پر یہ نعرہ ہوگا پُورکستان ہی پُورکستان
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کسی سے خود کو مگر کم نہیں بنائیں گے
ہمارے عہد میں ہر سو محبتیں ہوں گی
خزاں کا ہم کوئی موسم نہیں بنائیں گے
ہم ایک نقشہ بنائیں گے سارے ملکوں کا
کسی بھی ملک کا پرچم نہیں بنائیں گے
ہم اپنے علم سے مرہم بنائیں گے لیکن
ہم اپنے علم سے ایٹم نہیں بنائیں گے
ہماری سانس کو عادت نہ ہونے لگ جائے
کبھی بھی ہم کوئی ہمدم نہیں بنائیں گے
کبھی نہ راستہ روکیں گے جانے والوں کا
کہیں پہ چشمۂِ زم زم نہیں بنائیں گے
کسی سے دور بھی رہ کر خوشی سے جی لیں گے
کسی کی زیست جہنم نہیں بنائیں گے
جو دل کی صداؤں کی گہرائی ہے، وہی ہے۔
جو ہر گام پر ہے چراغِ نظر
مسافت میں رہتی جو بینائی ہے، وہی ہے۔
نہ پوچھو کہ کیسے وہ دل میں بسا ہے
کہ جذبوں کی ہر ایک رسوائی ہے، وہی ہے۔
کبھی ایک آہٹ، کبھی ایک خوشبو
یہ دنیا جو دل میں بس آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو خیالوں میں اکثر سنواروں
جو خوابوں میں چپکے سے آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو دعاؤں میں اکثر پکاروں
مرے لب پہ ہر دم جو آئی ہے، وہی ہے۔
نہ چاہا کسی اور کو اس طرح سے
محبت کی میری جو سچائی ہے، وہی ہے۔
کہا جس کو میں نے کبھی زندگی
وہی میری سب کچھ، خدائی ہے، وہی ہے۔
وہی روشنی ہے، وہی خواب سا ہے
مری ہر نگاہوں کی بینائی ہے، وہی ہے۔
سنو لوگو! جس نے مجھے جان بخشا
مرے دل میں مظہر جو چھائی ہے، وہی ہے۔






