یاد
Poet: farah ejaz By: farah ejaz, Aaronsburgغنچہء دل اب مرجھانے لگے
آج پھر کوئی یاد ہمیں آنے لگے
رات کے دم توڑتے سائے
تنہائیوں پر ہماری مسکرانے لگے
بجھتے حسرتوں کے چراغ بھی
یاس کے دیپ دیکھو جلانے لگے
رم جھم برستے ساون بھی
تن من میں اگ سی برسانے لگے
یہ کیسی اگن ہے جو بجھتی ہی نہیں
ساغر پر دیکھو کتنے آشیانے جلانے
یوں تو سبھی ہیں جہاں میں اپنے مگر
دل ویراں میں تنہائی ستم کیوں ڈھانے لگے
تیری کج ادائیوں کی قسم ہے جاناں
ہم کانٹوں سے دامن اب الجھانے لگے
میں تجھ سے ہوں تو مجھ سے ہے پھر
کیوں یہ فاصلہ سا درمیاں میں آنے لگے
انہیں دیکھے بن چین کہیں ملتا ہی نہیں
شاید اسی لئے فرح وہ ہم سے کترانے لگے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






