یاد آ کے تری ہجر میں سمجھائے گی کس کو

Poet: جلالؔ لکھنوی By: Sahir, Lahore

یاد آ کے تری ہجر میں سمجھائے گی کس کو
دل ہی نہیں سینہ میں تو بہلائے گی کس کو

دم کھنچتا ہے کیوں آج یہ رگ رگ سے ہمارا
کیا جانے ادھر دل کی کشش لائے گی کس کو

اٹھنے ہی نہیں دیتی ہے جب یاس بٹھا کر
پھر شوق کی ہمت کہیں لے جائے گی کس کو

جب مار ہی ڈالا ہمیں بے تابئ دل نے
کروٹ شب فرقت میں بدلوائے گی کس کو

مر جائیں گے بے موت غم ہجر کے مارے
آئے گی تو اب زندہ اجل پائے گی کس کو

اچھا رہے تصویر کسی کی مرے دل پر
کمبخت نہ ٹھہرے گا تو ٹھہرائے گی کس کو

کچھ بیٹھ گیا دل ہی یہاں بیٹھ کے اپنا
غیرت تری محفل سے اب اٹھوائے گی کس کو

اس وعدہ خلافی نے اگر جان ہی لے لی
پھر جھوٹی تسلی تری تڑپائے گی کس کو

کیوں لیں گے جلالؔ آ کے مرے دل میں وہ چٹکی
جھپکے گی پلک کاہے کو نیند آئے گی کس کو

Rate it:
Views: 334
21 Oct, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL