یاد آتی ہے
Poet: Imran Raza By: Syed Imran Raza, sargodhaچمن میں جب بھی کوئی شاخ لہلہاتی ہے
نہ جانے کیوں تیِرے آنچل کی یاد آتی ہے
ہر آئینہ پہ نہ کر اعتبار، دیدہء شوق
نظر کا کیا ہے، یہ اکثر فریب کھاتی ہے
تیِرا جمال ہے تیرے وجود کا احساس
بہار آئے تو خوشبو بھی ساتھ لاتی ہے
بصد خُلوص جو آتا ہے کام اوروں کے
حقیقتا“ وُہی انسان کائناتی ہے
کبھی کبھی تو دھڑکتا ہے ایسے دل، جیسے
بہت قریب سے آواز تیری آتی ہے
میں کیسے ذکر کروں سوزِ غم کا اے عمران
کہیِں یہ آنچ بھی لفظوں میں ڈھالی جاتی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






