یاد عہد رفتہ
Poet: محمد اطہر طاہر By: Athar Tahir, Haroonabadﮔﺰﺭﮮ ﻭﻗﺖ ﮐﻮ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﻧﺎ
ﺁﺳﺎﻥ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ
ﺟﺐ ﭘﺎﺅﮞ ﭼﮭﻠﻨﯽ ﭼﮭﻠﻨﯽ ﮨﻮﮞ
ﺍﻭﺭ ﺩﻝ ﺑﮭﯽ ﺯﺧﻤﯽ ﺯﺧﻤﯽ ﮨﻮ
ﺭﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﻮ ﺩﮬﻮﻝ ﺑﮭﺮﯼ
ﺍﻭﺭ ﮐﺎﻧﭩﮯ ﺑﮑﮭﺮﮮ ﺑﮑﮭﺮﮮ ﮨﻮﮞ
ﺗﻮ ﺧﺎﺭﺩﺍﺭ ﺭﺳﺘﻮﮞ ﭘﺮ ﭼﻠﻨﺎ
ﺁﺳﺎﻥ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ
ﺟﺐ ﺑﻮﻧﺪ ﺑﻮﻧﺪ ﮐﺎ ﺗﺮﺳﺎ ﺻﺤﺮﺍ ﮨﻮ
ﺍﻭﺭ ﺳﻮﺭﺝ ﺳﮯ ﺁﮒ ﺑﺮﺳﺘﯽ ﮨﻮ
ﺍﺱ ﺟﻠﺘﮯ ﺗﭙﺘﮯ ﺻﺤﺮﺍ ﻣﯿﮟ
ﺗﻨﮩﺎ ﻣﺴﺎﻓﺮ ﮐﺎ ﻣﻨﺰﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﭘﺎﻟﯿﻨﺎ
ﺁﺳﺎﻥ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ
ﺟﺐ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺧﻮﻥ ﺍﮔﻠﺘﯽ ﮨﻮﮞ
ﺍﻭﺭ ﺩﻝ ﺑﮭﯽ ﺧﺎﻟﯽ ﺧﺎﻟﯽ ﮨﻮ
ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﭘﮧ ﺑﮑﮭﺮﯼ ﺳﯿﺎﮨﯽ ﮨﻮ
ﺍﻭﺭ ﺑﺪﻥ ﺑﮭﯽ ﻧﯿﻼ ﻧﯿﻼ ﮨﻮ
ﺍﯾﺴﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﭙﻨﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮩﻠﻨﺎ
ﺁﺳﺎﻥ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL






