یاد کرو گی۔۔۔
Poet: Tariq Iqbal Haavi By: Tariq Iqbal Haavi, Lahoreاغیار کو سمجھی تو ہمیں یاد کرو گی
تم پیار کو سمجھی تو ہمیں یاد کرو گی
تمھیں سامنے پا کر بھی
تمھیں دیکھنے کی حسرت
اعتبار کو سمجھی تو ہمیں یاد کرو گی
میری آنکھوں میں سُرخی
کیسی ہے مت پوچھو
انتظار کو سمجھی تو ہمیں یاد کرو گی
نہیں ہر کسی کے بس میں
یوں بے بسی میں ہنسنا
کبھی ہار کو سمجھی تو ہمیں یاد کرو گی
بے وزن لگ رہی ہیں
ابھی حاوی کی جو باتیں
اشعار کو سمجھی تو ہمیں یاد کرو گی
(طارق اقبال حاوی)
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






