یاد کے گھر سے بھی آئے صدا بے وفا تیرا دلدار تھا
Poet: Maria Riaz By: Maria Ghouri, Haroona abadعجیب سلسلا ملاقات تیرا اب کی بار تھا
تھی محبت کی وہی ادا پر بدلا میرا یار تھا
چاہ تھی کچھ سننے کی کہہ تو رہے تھے تم
گیت تھا وہ محبت کا یا سمع سوگوار تھا
چھوڑ تو گئے تھے تم بہت پہلے یقین نہیں تھا
پتہ تب چلا جب تنہائیوں میں ڈوبا میرا سنسار تھا
پل دو پل کی رفاقت دی چلو دی تو سہی
رفاقتوں کے دوپلوں میں محبت قا جہاں بڑا سازگار تھا
اب یاد کی دہلیز پر بیٹھ کر دن رات تجھے یاد کرتے ہیں
یاد کے گھر سے بھی آئے صدا بےوفا تیرا دلدار تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






