یاد ہے مجھے دن جمعرات، تاریخ ٢٤ ماہ اپریل تھا
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL GILL, Gujranwalaجب وہ گیا چھوڑ کے مجھے تن من سارا گھائل تھا
یاد ہے مجھے دن جمعرات، تاریخ ٢٤ ماہ اپریل تھا
پھر میں نہ آغاز نئے سفر کا کر سکا آج تک
وہ جا کے بھی مری راہوں میں سدا حائل تھا
اب کہتا ہے وہ کہ تم اک معمولی سے ہو بس
کل تک وہ فرد مری سوچ کا یارو قائل تھا
میں نے کہا محبت ہی نہ کرتے اگر جانا تھا
مسکراتے ہوئے بولا محبت تو ترے ساتھ چہل تھا
دن کو ہجر کی گرمی نے ارمان جلائے مرے
رات کو غم کی سردی میں دل دہل تھا
بربادی کا سانحہ میں اب کیسے سنائوں نہال
دل میں رہنے والا مری بربادی میں دخائل تھا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






