یادوں کا نومبر
Poet: Faiza Umair By: Faiza Umair, Lahoreاُداس لمحے، زرد پتے اور دُھندلے سے چہرے
بڑا ہی قہر ڈھاتا ہے یہ یادوں کا نومبر
گم گشتہ راستے، ادھورے خواب اور تنہا سی شامیں
بڑا ہی مایوس کرتا ھے یہ یادوں کا نومبر
بُجھتی رنگت ، لرزتے لب اور برف زدہ سا وجود
اپنی آغوش میں لیتا ہے یہ یادوں کا نومبر
نم آنکھیں، بے معنی الفاظ اور بکھری سی سوچیں
بڑا ہی کرب دیتا ہے یہ یادوں کا نومبر
سرد ہوا، مدھم اُجالا اور شگفتہ سا مزاج
اک نیا موسم لاتا ہے یہ یادوں کا نومبر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






