یادوں کی تجسیم پہ محنت ہوتی ہے

Poet: احمد شہریار By: تنویر سپرا, Swat

یادوں کی تجسیم پہ محنت ہوتی ہے
بیکاری بھرپور مشقت ہوتی ہے

ایسا خالی اور اتنا گنجان آباد
آئینے کو دیکھ کے حیرت ہوتی ہے

دیواروں کا اپنا صحرا ہوتا ہے
اور کمروں کی اپنی وحشت ہوتی ہے

اس کو یاد کرو شدت سے یاد کرو
اس سے تنہائی میں برکت ہوتی ہے

بچپن جوبن اور بڑھاپا اور پھر موت
سب چلتے رہنے کی عادت ہوتی ہے

جینا تو بس لفظ ہے اک بے معنی لفظ
موت سے پہلے موت کی فرصت ہوتی ہے

ایسی آزادی اب اور کہاں ہوگی
عشق میں سب کرنے کی اجازت ہوتی ہے

آنسو موتی جگنو تارہ سورج چاند
ہر قطرے کی اپنی قسمت ہوتی ہے

Rate it:
Views: 432
11 Nov, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL