یادوں کی محفل

Poet: Gul Ghani Afridi By: gul ghani afridi, peshawar

اِسی خاموش دسمبر میں ملے تھے ہم تم
اِس برس بھی وہی خاموش دسمبر ہے مگر
تو نہیں پاو تو یخ بستہ ہَواییں اِس کی
دِل میں یادوں کو جگانے کلیے آتی ہیں
ہر طرف سے ہی اُداسی کا چراغاں کر کے
چلی جاتی ہے مجھے چھوڑ کے تنہا تنہا
میں اُداسی کی چراغوں کی حسیں محفل کو
تیری ہر یاد کی خوشبو سے سجا دیتا ہوں
اور اِسی شامِ دسمبر میں یہ محفل دِل کی
مجھے لگتی ہے ویرانے میں گلابوں کی طرح
بس یہی آس سجادیتا ہوں اپنے دِل میں
کہ کبھی پِھر سے یہ خاموش دسمبر آیے
تو تیرے وِصل کی خوشیوں کا چراغاں کر دوں
تیری قربت میں گزر جایے دسمبر سارا
اِسی اُمید سے ہر شام گزرجاتی ہے
جیسے اِک حسرتِ ناکام گزر جاتی ہے۔

Rate it:
Views: 779
01 Dec, 2015
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL