یادوں کی وہ باتیں
Poet: راحیل رشید By: راحیل رشید, Bahawalpurپہلے جو ہر بات میں شامل تھی
اب وہی خاموش سوالی ہے
جس کی نظر میں خواب سجے تھے
اب وہی آنکھ بھی خالی ہے
پہلے جو پل پل میرا تھا
اب ہر ساعت پر جالی ہے
جو ہر لمحے کو چاہا ہم نے
اب وہی لمحہ گمنامی ہے
کہتی تھی کچھ، چھپ چھپ کر بھی
اب تو ہر جنبش ٹالی ہے
پہلے جو دل کی باتیں تھیں
اب وہ بھی رسم مثالی ہے
میں نے کہا، "آج کچھ لمحے"
کہنے لگی، "اب نیند چلی"
میں نے سنا، پر دل نہ مانا
وہ کہہ گئی، میری سن لی
میں نے اگر کچھ دیر کیا تو
اُس نے مکمل ہی چھوڑ دیا
پہلے جو مجھ میں جیتی تھی
اب وہی چہرہ توڑ دیا
اب جو میں چپ ہوں، یہ چپ بھی
خود سے کہی اک گالی ہے
اب جو میں ہنستا پھرتا ہوں
وہ مسکاں بھی اک خالی ہے
اور راحیل اب جو سوچتا ہے
اک سچ ہے، یا اک کہانی ہے؟
وہ جو کسی دن میرا تھا
اب صرف اک مہمانی ہے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






