یادوں کی وہ باتیں

Poet: راحیل رشید By: راحیل رشید, Bahawalpur

پہلے جو ہر بات میں شامل تھی
اب وہی خاموش سوالی ہے
جس کی نظر میں خواب سجے تھے
اب وہی آنکھ بھی خالی ہے

پہلے جو پل پل میرا تھا
اب ہر ساعت پر جالی ہے
جو ہر لمحے کو چاہا ہم نے
اب وہی لمحہ گمنامی ہے

کہتی تھی کچھ، چھپ چھپ کر بھی
اب تو ہر جنبش ٹالی ہے
پہلے جو دل کی باتیں تھیں
اب وہ بھی رسم مثالی ہے

میں نے کہا، "آج کچھ لمحے"
کہنے لگی، "اب نیند چلی"
میں نے سنا، پر دل نہ مانا
وہ کہہ گئی، میری سن لی

میں نے اگر کچھ دیر کیا تو
اُس نے مکمل ہی چھوڑ دیا
پہلے جو مجھ میں جیتی تھی
اب وہی چہرہ توڑ دیا

اب جو میں چپ ہوں، یہ چپ بھی
خود سے کہی اک گالی ہے
اب جو میں ہنستا پھرتا ہوں
وہ مسکاں بھی اک خالی ہے

اور راحیل اب جو سوچتا ہے
اک سچ ہے، یا اک کہانی ہے؟
وہ جو کسی دن میرا تھا
اب صرف اک مہمانی ہے

Rate it:
Views: 293
23 Apr, 2025
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL