یادوں کے خزانے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, پاکستانکہیں راہوں میں یادوں کے خزانے بھول آئے ہیں
نئے ساتھی ملے ہم کو پرانے بھول آئے ہیں
ملاقاتوں کی چھاؤں اب نہیں ملتی کہیں ہم کو
ملاقاتوں کے سارے ہم ٹھکانے بھول آئے ہیں
بڑے خوش فہم ہوتے تھے بڑے ہی وہم ہوتے تھے
سبھی بچپن کی الفت کے زمانے بھول آئے ہیں
جدائی کی غزل اب گنگناتے ہیں اکیلے میں
تری فرقت میں قربت کے ترانے بھول آئے ہیں
کوئی رونق نہیں اب تو سبھی ویران رستے ہیں
فسانے بن گئے ہیں ہم فسانے بھول آئے ہیں
کوئی نخچیر اب فتراک میں دیکھا نہیں وشمہ
نظر کے برسرِ صحرا نشانے بھول آئے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






