یادوں کے دریچے سے وہی روپ دکھا جا
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillیادوں کے دریچے سے وہی روپ دکھا جا
پلکوں کے جھروکوں پہ کوئی آس سجا جا
وہ جن گھنے پیڑوں کے تلے کھائی تھیں قسمیں
آ انکو آ کے پھر گل و گلزار بنا جا
میں خود فریبیوں میں کہاں تک پڑا رہوں
ہاتھوں کی لکیروں سے میرے خواب چرا جا
آتے ہیں یاد اب بھی وہ سب ریشمی لمحے
اے ناز ناز پھر وہی احساس جگا جا
مدت ہوئی حیات جہاں روٹھ گئی تھی
میںاب بھی وہیں ہوں تجھے جانا ہے چلا جا
اے روح معانی تیری تطہیر کے صدقے
آ پھر میرے ادراک کی بانہوں میں سما جا
میں تو جیا ہوں عمر تیرے ساتھ کے بل پر
یہ ہر قدم پہ روٹھنا مجھکو بھی سکھا جا
دیکھو ناں کب سے زرد خیالوں میں پڑے ہیں
شعروں کو اپنی ذات کے کچھ راز بتا جا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






